The trick to avoiding trouble
أج کی روٹین میں أپ کو عبدالملک بن مروان کے ایک باغی کا جو حیلہ کر کے مصیبت سے بچ گیا اصمی نے اپنے باپ سے روایت کی کہ عبدالملک بن مروان کہ سامنے ایک شخص لایا گیا جو بعض ایسے لوگوں کا ساتھی تھا جنہوں نے عبدالملک سے بغاوت کی تھی تو اس نے حکم دیا کہ اس کی گردن مار دی جاۓ اس شخص نے کہا اے امیرالمؤمنین أپ کی طرف سے مجھے یہ جزاملنی چاہیے اس نے کہا والللہ میں فلاں شخص کے ساتھ صرف أپ کی خیر خواہی کی وجہ سے ہوا تھا اور یہ اس بناء پر کہ میں ایک منحوس أدمی ہوں میں نے اب تک جس کسی بھی کا سا تھ دیا وہ مغلوب ہوا اور دشمن کے مقابلہ سے بھاگا اور جو دعوی بھی کر رہا ہوں اس کی صحت أپ پر واضع بھی ہو گیٔ میں أپ کے حق میں ان لاکھ أدمیوں سے زیادہ اچھا ہوں جو أپ کے ساتھ تھے عبدالملک ہنس پڑا اور اس کو چھوڑ دیا
......,.....................................,..........,........................,.
In his daily routine, he was tricked by a rebel of Abdul Malik ibn Marwan who escaped from trouble. He said that he should be beheaded. The man said: O Amir al-mu'minin! I should have received this punishment from you. Because I am an unlucky person, whoever I have supported so far has been defeated and has run away from the enemy, and the health of whatever I am claiming will be clear to you. I am better than a million people who were with you. Abdul Malik laughed and left him
.......................................................................,.........


Comments
Post a Comment