The trick to avoiding trouble
عباس بن ابی سھل الساعدی کی مسلم بن عقبہ سے گفتگو ابن عیاض کہتے کہ جنگ حرہ کے دن عباس بن سہل بن سعدالساعدی کے لۓ مسلم بن عقبہ سے امن کی درخواست کی گئ تومسلم کے پاس ان کو امن دینے سے لایا گیا عباس نے کہا الللہ امیر کو سلامت رکھے والللہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہت بڑی تھال أپ کے والد ماجد کی ہے اور وہ اس طرح حرہ تشریف لایا کرتے تھے کہ ان پر ایک منقش قیمتی چادر ہوتی تھی اور أکر حرہ کی نشست گاہ میں بیٹھتے تھے پھر بڑی تھال اپنے سامنے اور حاضرین کے سامنے رکھتے تھے مسلم نے کہا تو نے سچ کہا اسی طرح ہوتا تھا تجھ کو امن دیا جاتا ہے پھر کسی نے عباس سے پوچھا کہ کیا در حقیقت مسلم کا باپ ایسا ہی تھا جیسا تم نے بیان کیا تھا عباس نے کہا نہیں خدا کی قسم میں نے تو حرہ میں اس کو ایسی بری حالت میں دیکھا ہے جب وہ موجود ہوتا تھا توصرف اسی کی نسبت سے یہ اندیشہ ہواکرتا تھا کہ ہمارے گھوڑوں کی رکاب یا اور کوئ سامان چرالے جاۓ اور کسی کی نسبت نہیں یعنی اس کی سب سے بد تر حالت تھی
..................................................................................Abbas said, "Abdul Baha was a Muslim, who was the first to take peace from the Muslim Bin Khabi, and the house of the law of the peace became the one who had a great precious phase on the one who had a precious phase, and the people of the house were in the front of the arrest, and said," No one said that he was in law, and did not tell him when he was present in such a bad condition, and it would have been good in the same way, and it would have been better than anybody, and it was better than anyone else, "he said."
..................................................................................

Comments
Post a Comment