The trick to avoiding trouble

 ابوالحسین السمارک کا خوبصورتی سے اپنی بے علمی کو چھپانا۔ابوالحسین بن السمارک لوگوں کے سامنے شہر کی مسجد جامع میں تقریر کیا کرتے تھے اور علوم متعارفہ میں سے الاماشاءاللہ بہتر طور پر کچھ حاصل نہ کیا تھا محض طبعی باتیں مذہب صوفیہ پر کیا کرتے تھے۔ان کو ایک رقعہ لکھا گیا کہ کیا فرماتے ہیں فقہاء کرام اس صورت میں کہ ایک شخص کا انتقال ہوا اور اس نے فلاں فلاں وارث چھوڑے تو انہوں نے اس کو کھولا اور غور سے پڑا۔جب اس کو دیکھا کہ فرائص کا سوال ہے تو اس کو ہاتھ سے پھینک دیا اور کہا میں اس قوم کے مزہب پر کلام کرتا ہوں کہ جب وہ مرتے ہیں تو ان کی ملک میں کچھ نہیں ہوتا۔حاضرین کو ان کی تیزی عقل سے حیرت ہوئ کہ کس خوبصورتی سے اپنی بے علمی کو چھپایا۔


........................................................,.........................Abu al-Husayn al-Simarak's beautiful concealment of his ignorance.  A rak'ah was written to him asking what the jurists say in case a person dies and he leaves such and such an heir, he opened it and read it carefully.  He threw his hand and said, "I am speaking on the religion of this nation that when they die, nothing happens in their country."

..................................................................................

Comments

Popular posts from this blog

Today's precious thing Hadiths on the subject of the greatness and honor of Prophet Muhammad (PBUH).

Today's valuable thing (honesty in business)

Today's precious thing